ssthem.xyz

 مور کیوں ناچتا ہے؟ سچ جان کر حیران رہ جائیں گے
مور — خوبصورتی کا بادشاہ
مور دنیا کا سب سے حسین پرندہ مانا جاتا ہے۔ اس کے چمکتے ہوئے نیلے پروں، دلکش دم اور جادوانہ رقص نے ہمیشہ انسان کو حیران کیا ہے۔ جب وہ اپنی دم کھول کر گھومتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے رنگین بادل زمین پر اتر آئے ہوں۔
The peacock is considered the king of beauty. Its shimmering blue feathers, majestic tail, and magical dance have fascinated humans for centuries. When it spreads its tail, it looks like a rainbow has descended to the earth.
 مور کیوں ناچتا ہے؟ اصل وجہ کیا ہے؟
مور کا ناچنا صرف خوبصورتی کا اظہار نہیں، بلکہ ایک قدرتی سائنس ہے۔ نر مور تب ناچتا ہے جب وہ مادہ مور کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ اس کے پروں کی کمپن، رنگوں کی جھلک اور آوازیں دراصل ’میتنگ سگنلز‘ ہوتے ہیں — یعنی محبت کا پیغام!
A peacock doesn’t dance just to show beauty; it’s pure biological science. The male dances to attract the female. The vibration of feathers, the shimmer of colors, and the special calls are actually mating signals — nature’s love messages.
 خوشی، طاقت اور اعتماد کی زبان
مور کا رقص اس کے اعتماد کی علامت بھی ہے۔ جب وہ طاقتور، خوش اور فریش محسوس کرتا ہے تو اس کا ناچ اور بھی شاندار ہو جاتا ہے۔ اس کا رقص ایک طرح کا ’میں حاضر ہوں‘ والا اعلان بھی ہے۔
The dance is also a display of confidence. When the peacock feels strong, happy, and energized, its performance becomes more stunning. It’s nature’s version of saying: “Here I am, look at me!
موسم بدلنے کی نشانی
دلچسپ بات یہ ہے کہ مور بارش سے پہلے ناچنے اور مخصوص آوازیں نکالنے لگتا ہے۔ دیہات میں لوگ اسے بارش کی پیش گوئی بھی سمجھتے ہیں۔ قدرت نے اسے موسم کا حیران کن سینسر دیا ہے۔
Interestingly, peacocks often dance before rainfall and make unique calls. In many regions, people take it as a sign of upcoming rain. It’s like nature has gifted the peacock a built-in weather sensor.
 روشنی کا جادو — دم کیوں چمکتی ہے؟
مور کی دم میں اصل رنگ نہیں ہوتے، بلکہ یہ روشنی کو توڑ کر رنگ بناتی ہے۔ جب روشنی پروں پر پڑتی ہے تو سبز، نیلے، سنہرے اور ارغوانی رنگ آنکھوں کو حیران کر دیتے ہیں۔
A peacock’s feathers don’t have real color pigments. They bend light to create those shimmering blue-green-gold effects. When sunlight hits them, the tail glows like a living hologram.
 نفسیات — مور کیا سوچتا ہے؟
ایک اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ مور کا ناچ اس کے موڈ سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اگر وہ بے سکون یا کمزور ہو تو کم ناچتا ہے۔ لیکن جیسے ہی موسم اچھا ہو یا وہ خوش ہو جائے، فوراً اپنی دم پھیلا کر رقص شروع کر دیتا ہے۔
A peacock’s dance is also linked with its emotional state. When it’s stressed or weak, it dances less. But when the weather feels good or it’s in a joyful mood, it instantly opens its tail and begins dancing.
 مور کے حیران کن حقائق — آپ دنگ رہ جائیں گے
🔹 مور کی آواز 1 کلومیٹر دور تک سنائی دیتی ہے۔
Its call can be heard from 1 km away.
🔹 صرف نر مور دم کھولتا ہے، مادہ مور نہیں۔
Only males open their tail; females do not.
🔹 مور بارش سے پہلے ناچتا ہے۔
Peacocks often dance before rain.
🔹 مور کے پروں میں رنگ نہیں — صرف روشنی کا جادو ہے۔
There are no pigments in its feathers—only light reflection.
🔹 مور 20 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
A peacock can live up to 20 years.
Peacock and Human Emotions | مور اور انسانی جذبات
مور کا رقص انسانی جذبات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جب کوئی شخص مور کو ناچتے ہوئے دیکھتا ہے تو دماغ میں “ڈوپامین” اور “سیروٹونن” جیسے خوشی کے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے مور کا رقص دیکھنے سے طبیعت ہلکی، موڈ بہتر اور ذہن پرسکون ہو جاتا ہے۔
The peacock’s dance strongly influences human emotions. Watching its movements increases dopamine and serotonin — the happiness hormones. This is why people feel relaxed, uplifted, and emotionally calm after watching a peacock dance.
Peacock in Ancient Healing | قدیم علاج میں مور کا کردار
قدیم طب میں مور کو روحانی اور نفسیاتی سکون کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ کچھ معاشروں میں مور کے پروں کو بری نظر سے بچانے کے لیے رکھا جاتا تھا، جبکہ پروں کے رنگ ذہنی تھکاوٹ کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
In ancient healing traditions, the peacock symbolized mental peace. Its feathers were kept to ward off negative energy, while its colors were believed to soothe mental fatigue and emotional imbalance.
Peacock in Art & Literature | ادب و فن میں مور
شعرا نے مور کو محبت، غرور، حسن اور وفاداری کا استعارہ بنایا ہے۔ اردو شاعری میں مور کے رقص کو دل کے جذبات سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مصور اس کے پروں کو روحانی روشنی کی علامت کے طور پر پینٹ کرتے ہیں۔
Poets used the peacock as a symbol of love, pride, beauty, and longing. In Urdu poetry, its dance is compared to the heartbeat in love. Artists paint its feathers as symbols of divine light and cosmic beauty.
 Peacock Intelligence | مور کی ذہانت
مور صرف خوبصورت نہیں بلکہ کافی ذہین پرندہ بھی ہے۔ وہ خطرہ دیکھ کر مخصوص آواز نکالتا ہے، اپنا راستہ بدل لیتا ہے، اور دوسرے موروں کو اپنے اشاروں سے خبردار کرتا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Peacocks are not just beautiful; they’re smart. They alert others to danger, adjust their movements strategically, and recognize individual birds within their group. Their behavior shows advanced social intelligence.
 Peacock’s Sacred Symbolism | مور کی روحانی علامت
ہندو، بدھ اور دیگر مذاہب میں مور کو پاکیزگی، روحانیت، محبت اور لمبی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے 100 سے زیادہ ’آنکھ‘ جیسے نقش بدی اور برائی سے بچاؤ کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
Across religions — Hinduism, Buddhism, and others — the peacock symbolizes purity, spiritual awakening, longevity, and divine protection. Its “eye spots” represent awareness, wisdom, and protection from negativity.
Color Science — مور کے رنگ کیوں بدلتے ہیں؟
مور کے پروں میںStructural Coloration
ہوتی ہے۔ یعنی اس کے پروں میں اصل رنگ نہیں بلکہ باریک کرسٹل جیسے ڈھانچے ہوتے ہیں جو روشنی کو توڑ کر مختلف رنگ بناتے ہیں۔ اسی لیے اس کی دم کبھی نیلی، کبھی سبز، کبھی سنہری لگتی ہے۔
The peacock’s feathers use “structural coloration,” meaning the colors come from microscopic crystal-like structures that reflect and bend light. That’s why the tail shifts between blue, green, gold, and violet.
Peacock Dance Mechanics | مور کا رقص کیسے ہوتا ہے؟
مور اپنا مخصوص “Train Rattle Dance” کرتا ہے جس میں:
دم مکمل کھولنا
پروں کی ہلکی کمپن
جسم کو دائرے میں گھمانا
مخصوص آوازیں نکالنا
آنکھوں کے نقش کو روشنی میں چمکانا
یہ سب مل کر مادہ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
The peacock’s “train rattle dance” includes:
Full tail display
Feather vibration
Circular body movement
Unique calls
Light-enhanced eye spots
All these elements create a hypnotic effect on the female.
Behavioral Psychology — مور کا دم ہلانا کیا بتاتا ہے؟
اگر مور بار بار دم ہلائے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ انتباہ دے رہا ہے۔ اگر وہ دم کھول کر خاموش کھڑا رہے، تو وہ کسی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر دم کھولے بغیر ناچے تو وہ غصے یا بے سکونی میں ہوتا ہے۔
Frequent tail shaking means alertness. Standing silently with an open tail means attraction. Dancing without opening the tail signals irritation or discomfort.
Monsoon Connection — برسات اور مور کا رقص
جیسے ہی فضا میں نمی بڑھتی ہے، مور کے اعصاب تیز ہو جاتے ہیں۔ وہ ناچ کر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر مور ناچے تو بارش نزدیک ہے — اور حیران کن طور پر اکثر یہ پیش گوئی درست بھی ہوتی ہے۔
As humidity rises, the peacock becomes more active. Its dance is a sign of joy and environmental change. Many communities believe that when a peacock dances, rain is near — surprisingly, this is often accurate.
Peacock Habitat & Lifestyle | مور کہاں رہتا ہے؟
مور زیادہ تر درج ذیل مقامات میں رہتا ہے:
کھلے جنگل
جھاڑیاں
کھیت
دریا کے اطراف
ہرے بھرے باغات
وہ اونچی جگہوں پر بیٹھ کر خطرات دیکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
Peacocks live in:
Open forests
Bushy areas
Farmlands
Riverbanks
Green gardens
They prefer higher ground for better visibility of predators.
Peacock Spiritual Impact | مور کا روحانی اثر
مور کا رقص دیکھ کر انسان کے اندر عجیب سی تازگی آتی ہے۔ کچھ لوگ اسے “روح کی صفائی” کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مور کے پروں کو گھروں میں سجاوٹ کے طور پر رکھا جاتا ہے۔
Watching a peacock dance brings an emotional cleansing effect. This is why people often keep its feathers as symbols of purity and positive energy.
 Mega Facts — حیرت انگیز سائنسی حقائق
 مور کے پروں کی مائیکرو اسٹرکچر کی شکل ہزاروں نیوران جیسی ہوتی ہے۔
Its feather microstructure resembles thousands of neural patterns.
 مور کا دم کھولنا ایک حسابی زاویہ رکھتا ہے، جیسے جیومیٹری کا فن۔
Its tail unfurls at mathematically precise angles.
 مور 70–90 مختلف آوازیں نکال سکتا ہے۔
Peacocks can produce 70–90 distinct sounds.
 مادہ مور دم کے رنگ سے زیادہ کمپن کی فریکوئنسی پر فدا ہوتی ہے۔
Females prefer vibration frequency over color.
 Peacock in Ancient Civilizations | قدیم تہذیبوں میں مور کی اہمیت
مور کو تقریباً تمام بڑی تہذیبوں نے مقدس درجہ دیا۔
قدیم ہندوستان: مور کو زہد، شجاعت اور بارش کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
فارس: بادشاہ اپنے تخت پر مور کے نقش کندہ کراتے تھے۔
مصری تہذیب: مور کو “روشنی کے محافظ” کا درجہ دیا گیا۔
یونان: مور کو “ہیریا کی آنکھیں” کہا جاتا تھا — دیوی Hera کے محافظ پرندے کے طور پر۔
Peacocks held sacred status across major civilizations.
Ancient India: symbol of courage and monsoon.
Persia: royal emblem carved in palaces.
Egypt: guardian of light.
Greece: associated with goddess Hera and heavenly protection.
 Peacock in Islamic Literature | اسلامی ادب میں مور
اسلامی روایات میں مور کے حوالے سے تین مشہور پہلو پائے جاتے ہیں:
1️⃣ جنت کی خوبصورت مخلوق کا ذکر
بعض روایات میں جنت کی خوبصورتی بیان کرتے وقت مور کا ذکر ملتا ہے، بطور عالی شان پرندہ۔
2️⃣ قدرت کی صناعی کی علامت
علماء مور کے رنگوں کو اللہ کی تخلیقی قوت کی دلیل سمجھتے ہیں — رنگ جو اصل میں موجود نہیں مگر پھر بھی چمکتے ہیں۔
3️⃣ عبرت اور حکمت
مور کی دم بہت بڑی ہے لیکن وہ پرواز نہیں کر سکتا، جو انسان کے تکبر پر ایک خاموش سبق ہے۔
In Islamic thought, the peacock signifies three concepts:
A bird of Paradise in some historical narrations.
A symbol of divine artistry, since its colors come from light — not pigments.
A reminder that external beauty cannot replace inner strength, as the peacock cannot fly high despite its grand tail.
 Peacock Physiology — Inside the Beauty | مور کی جسمانی بناوٹ
مور کی بناوٹ صرف خوبصورتی نہیں بلکہ حیرت انگیز انجینئرنگ بھی ہے:
🔬 1. Feather Micro-Structure
مور کے پروں میں “فیبوناکی پیٹرن” جیسا گولائی والا سسٹم پایا جاتا ہے — جو کائنات کی ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے۔
🔬 2. Muscle Control System
مور کے دم کے نیچے 200 سے زیادہ مخصوص عضلات ہوتے ہیں جو دم کو کھولنے، بند کرنے اور کمپن پیدا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
🔬 3. Feather Resonance
مور جب دم ہلاتا ہے تو 25–28 ہرٹز کی مخصوص فریکوئنسی بنتی ہے — یہی آواز مادہ مور کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔
Peacock physiology blends beauty and precise engineering:
Feathers follow Fibonacci-like geometry.
200+ specialized muscles move the train.
Tail vibrations resonate at 25–28 Hz to attract females.
Peacock Psychology — The Mind Behind the Dance | مور کا ذہن کیسے کام کرتا ہے؟
مور صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ناچتا بلکہ دماغی کیمسٹری بھی اس میں شامل ہوتی ہے۔
🧠 1. Social Dominance
مور دوسرے نر موروں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے زیادہ بار رقص کرتا ہے۔
🧠 2. Confidence Boost
جب مور کو کامیاب ردعمل ملتا ہے، اس کے دماغ میں Dopamine بڑھ جاتا ہے — اور وہ مزید جوش سے ناچتا ہے۔
🧠 3. Territory Claim
مور اپنے علاقے کی ملکیت ظاہر کرنے کے لیے پروں کو کھول کر کھڑا ہوتا ہے۔
Peacock psychology includes:
Competition
Emotional reinforcement
Territorial signaling
Seasonal mood shifts
The peacock is emotional, expressive, and socially strategic — not just beautiful.
 Peacock & Monsoon — دنیا کا قدرتی موسم شناس
مور کا رقص صرف محبت نہیں بلکہ موسم کی تبدیلی کا اشارہ بھی ہوتا ہے۔
نمی بڑھتے ہی مور کے اعصاب متحرک ہوتے ہیں۔
مخصوص “Mee-Yow” جیسی آوازیں بارش کی آمد کا اعلان کرتی ہیں۔
دیہات میں آج بھی مور کا ناچ “بارش کی خبر” سمجھا جاتا ہے۔
Peacocks predict monsoon better than some instruments — humidity triggers their nervous system, making them dance and call loudly.
Peacock in Human Society — ایک عجیب تعلق
1. Beauty Inspiration
لباس کے ڈیزائن، جیولری اور گھر کی سجاوٹ میں مور کے رنگوں سے ہزاروں سال سے آئیڈیاز لیے جاتے ہیں۔
2. Meditation Symbol
روحانی گرو مور کے پروں کو “روح کی آنکھیں” کہتے ہیں۔
 3. Positivity & Aura Cleansing
کئی لوگ مور کے پَر کو گھر میں برکت، تحفظ اور مثبت توانائی کی علامت سمجھتے ہیں۔
For humans, the peacock represen beauty, energy, positivity, and spiritual awakening.
Rare & Unknown Facts — وہ باتیں جو شاید آپ نے کبھی نہ سنیں
1. مور کا دل انسان سے دوگنا تیز دھڑکتا ہے۔
A peacock’s heart beats twice as fast as a human heart.
 2. مادہ مور دم کے سائز سے زیادہ دم کی “حرکت کی ریتم” کو پسند کرتی ہے۔
Females choose males based on rhythm, not size.
 3. مور خطرہ دیکھ کر سانپ کی طرح آواز نکالتا ہے۔
Peacocks mimic snake sounds to confuse predators.
 4. مور گھڑی کی ٹِک ٹِک جیسی آوازیں بھی نکالتا ہے — خاص کر میٹنگ سیزن میں۔
They make ticking sounds like a clock during courtship.
 5. مور کی ٹانگیں بہت طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ 10 فٹ تک چھلانگ لگا سکتا ہے۔
Peacocks can jump up to 10 feet with powerful legs.
 Final Insight — مور کا رقص قدرت کی شاعری ہے
مور کا رقص: سائنس بھی ہے _  روحانیت بھی
محبت بھی _ تاریخ بھی  _ طاقت بھی
یہچہا کہ قدرت کا ایک ایسا معجزہ ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ ہر رقص نئی کہانی سناتا ہے۔
 The peacock’s dance is poetry written in color, movement, sound, and emotion. It’s a timeless miracle.
مور کی تاریخ — وقت کے دھاگوں میں لپٹی ایک خوبصورت کہانی
مور کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مور کا تعلق اصل میں جنوبی ایشیا سے ہے، جہاں بھارت، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش اس کا ابتدائی مسکن رہے۔ قدیم بادشاہوں کے محلوں، باغوں اور مندروں میں مور کو خاص مقام حاصل تھا۔ اس کی خوبصورتی اور شان کی وجہ سے کئی تہذیبیں اسے خوش قسمتی، طاقت اور پاکیزگی کی علامت سمجھتی تھیں۔ یونانی اس کے پروں کو جلال کی علامت سمجھتے تھے، جبکہ چینی تہذیب میں مور کو شاہی خاندان کی عزت کا نشان سمجھا جاتا تھا۔
The history of the peacock stretches back thousands of years. Researchers believe it originated from South Asia, especially regions like India, Pakistan, Sri Lanka, and Bangladesh. In ancient palaces, temples, and royal gardens, the peacock was given a place of honor. Its beauty made many civilizations see it as a symbol of luck, purity, and power. Greeks admired its feathers as symbols of glory, while Chinese tradition associated it with royalty and dignity.
 انسانی معاشرے میں مور کا کردار — حسن کا سفیر، امید کی علامت
مور نے ہمیشہ انسانی معاشرت کو متاثر کیا ہے۔ قدیم بادشاہوں نے اس کے پروں کو تاجوں اور لباسوں میں استعمال کیا۔ عام لوگ اسے خوش قسمتی، دولت اور کامیابی کی علامت سمجھتے تھے۔ آج بھی کئی علاقوں میں مور کو امن، خوبصورتی اور وقار کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پروں سے بنے فین، جیولری اور سجاوٹی اشیاء دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ فلموں، ڈراموں، آرٹ ورک اور شاعری میں مور کو عشق، غرور اور خوبصورتی کا استعارہ بنایا جاتا ہے۔
The peacock has always influenced human society. Ancient kings used its feathers in crowns and garments. Common people saw it as a symbol of luck, wealth, and success. Even today, peacock imagery is linked with peace, beauty, and dignity. Its feathers inspire jewelry, décor, fashion, and art. In literature and poetry, the peacock symbolizes pride, elegance, and undying love.
 اسلامی نظریہ — کیا مور کا ذکر کسی روایت میں ملتا ہے؟
اسلام میں مور کو اللہ کی صناعی کا ایک خوبصورت نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں مور کا نام خاص طور پر نہیں آیا، مگر اسلامی علماء قدرتی خوبصورتی کے حوالے سے اس کی مثال دیتے ہیں۔ کچھ روایات میں مور کو جنتی پرندوں میں سے بیان کیا گیا ہے، اور اسے اللہ کی قدرت کے کمال کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان علماء کہتے ہیں کہ مور کی خوبصورتی انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اللہ نے ہر مخلوق کو منفرد جمال بخشا ہے، اور اس کا رنگ، شکل اور رقص محض اتفاق نہیں بلکہ قدرت کا شاہکار ہے۔
In Islam, the peacock is admired as a masterpiece of Allah’s creation. Although it isn’t specifically named in the Qur’an, scholars often cite it as an example of divine beauty. Some narrations refer to the peacock as a bird associated with paradise. Islamic scholars explain that its beauty reminds humans of God’s perfection in creation — its colors and dance are signs of divine artistry.
 مور کی حیاتیاتی بناوٹ — رنگ اور روشنی کا سائنسی معجزہ
مور کے جسمانی ڈھانچے کو سمجھیں تو یہ محض خوبصورتی نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی حیاتیاتی انجینئرنگ ہے۔ اس کی دم میں تقریباً 200 پروں کا تاج نما فین ہوتا ہے، جن میں اصل رنگ نہیں بلکہ مائیکرو اسٹرکچر ہوتے ہیں جو روشنی کو منعکس کر کے مختلف رنگ بناتے ہیں۔ اس کی آنکھوں کی شکل کے نشانات (Eye Spots) حقیقت میں روشنی کے بکھرنے سے بنتے ہیں۔ مور کی ٹانگیں مضبوط مگر باریک ہوتی ہیں، جو اسے ناچتے وقت بیلنس برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ دم کو ایک سیکنڈ میں سو بار ہلانے کی صلاحیت اسے دنیا کا منفرد رقص کرنے والا پرندہ بناتی ہے۔
Biologically, the peacock is a marvel. Its tail fan, made of nearly 200 feathers, doesn’t contain color pigments — instead, microstructures reflect light to create iridescent colors. The iconic eye spots result from optical scattering. Its thin yet strong legs help maintain balance during its rapid shaking dance. A male peacock can vibrate its tail feathers up to 100 times per second, making it a unique performer in the animal world.
 مور کی نفسیات — اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے؟
نفسیاتی طور پر مور ایک حساس، خوداعتماد اور انتہائی شعوری پرندہ ہے۔ یہ اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اگر موسم خوشگوار ہو، خوراک مناسب ملے یا مادہ مور قریب ہو تو اس کا مزاج فوراً بدل جاتا ہے اور وہ ناچ شروع کر دیتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مور کا رقص اس کے موڈ، جذبات اور خود اعتمادی کا آئینہ ہے۔ جب اسے لگے کہ وہ اپنی بہترین حالت میں ہے تو وہ پوری شان سے اپنی دم پھیلاتا ہے، اور اگر بیمار ہو یا کمزور ہو تو دم کھولنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
Psychologically, the peacock is a highly aware, emotional, and confidence-driven bird. It stays alert to its surroundings. Good weather, proper food, or the presence of a female instantly boosts its mood, triggering the dance. Researchers say its dance reflects its emotions, dominance, and self-esteem. When it feels powerful, it spreads its tail proudly; when weak or stressed, it avoids dancing altogether.
 مور کا ناچ — عشق، اعتماد اور فطرت کی موسیقی
مور کا رقص فطری طور پر ایک محبت کا پکار ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ طاقت، خوبصورتی اور جذبات کی زبان بھی ہے۔ جب نر مور اپنی دم پھیلاتا ہے تو وہ دراصل اپنی بہترین خصوصیات دکھا کر مادہ کو بتاتا ہے: “میں سب سے مضبوط ہوں، سب سے خوبصورت ہوں، مجھے منتخب کرو۔” یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کا سب سے شاندار قدرتی “ڈانس پرفارمر” کہا جاتا ہے۔
The peacock’s dance is nature’s music of love, beauty, and dominance. The male spreads its tail not just to attract the female, but also to prove its strength and charm. It’s why the peacock is considered one of the most extraordinary natural performers on earth.
 مور کی جینیاتی دنیا — رنگ کہاں سے آتے ہیں؟
مور کے جسم میں ایک خاص قسم کی جینیاتی کوڈنگ موجود ہوتی ہے جسے Structural Coloration Gene کہا جاتا ہے۔ یہ جین پروں میں رنگ پیدا نہیں کرتا بلکہ پروں کی بناوٹ ایسی بناتا ہے کہ جب روشنی ان پر پڑتی ہے تو نیلا، سبز، سونا، جامنی اور کبھی کبھی چمکیلا فیروزی رنگ ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مور جب حرکت کرتا ہے تو اس کے رنگ بدلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ جین ہزاروں سال میں ارتقائی عمل کے ذریعے مضبوط تر ہوا ہے۔
The peacock has a unique genetic structure known as the structural coloration gene. This gene doesn’t create actual pigment; instead, it forms microscopic layers on the feathers that bend and scatter light, producing blue, green, gold, and turquoise. This is why the colors shift as the peacock moves. This gene became stronger over thousands of years through evolution.
مور کا دم کھولنے کا عمل — ایک سائنسی ڈانس مشین
جب مور اپنی دم کھولتا ہے تو وہ اصل میں ایک پیچیدہ بائیومیجیکل عمل سے گزرتا ہے۔ اس کے پروں کے پیچھے بہت باریک مسلز ہوتے ہیں جو دم کو پھیلانے اور جھٹکے دینے میں مدد کرتے ہیں۔ دم کے کمپن سے ایک مخصوص ’بز‘ آواز پیدا ہوتی ہے جو مادہ مور کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، مور کے پروں میں اتنے باریک بال جیسے فائبرز ہوتے ہیں کہ ان کی حرکت عام آنکھ سے نظر نہیں آتی مگر آواز اور کمپن شدید ہوتا ہے۔
When a peacock opens its tail, it performs a complex biomechanical process. Tiny muscles at the base of the feathers help it spread and shake the plumage. The vibration creates a buzzing sound that attracts the peahen. Scientists discovered extremely thin fiber-like structures in the feathers that move rapidly — invisible to the eye but powerful enough to create strong vibration patterns.
 مور کا دل طاقتور اور تیز دھڑکنے والا
مور کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوتی ہے، خاص طور پر ناچتے وقت۔ جب وہ دم کھولتا ہے تو اس کی دل کی رفتار بڑھ کر تقریباً دوگنی ہو جاتی ہے۔ یہ اضافی توانائی اسے اپنے حیرت انگیز رقص کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک صحت مند مور ایک وقت میں 10 سے 15 منٹ تک مسلسل ناچ سکتا ہے، اور اس دوران وہ اپنے پورے جسم کے مسلز کو استعمال کرتا ہے۔
A peacock’s heart rate rises significantly during dancing — almost doubling. This extra energy supports the long, intense dance. A healthy peacock can dance continuously for 10–15 minutes, using nearly every major muscle group in its body.
مور کی نفسیاتی حساسیت — ماحول بدلتے ہی موڈ بدل جاتا ہے
مور انتہائی حساس ذہن رکھتا ہے۔ اگر موسم گرم ہو، پانی کم ملے، یا کوئی شکاری پاس ہو تو وہ فوراً ناچنا بند کر دیتا ہے۔ اس کی دم بھی اسی وقت کھلتی ہے جب وہ مکمل طور پر محفوظ ماحول میں ہو۔ اگر گرج چمک ہو، تیز ہوا ہو یا بارش ہونے والی ہو تو مور کا موڈ ایک دم تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ یا تو خوشی میں ناچنے لگتا ہے یا خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔
The peacock has a highly sensitive psychological nature. Hot weather, lack of water, or the presence of predators immediately stops its dance. It opens its tail only when it feels completely safe. During thunder, wind, or upcoming rain, its mood shifts — sometimes it dances joyfully, sometimes it becomes silent and cautious.
 مور اور انسان — روحانی جڑت
کئی لوگ مور کو صرف خوبصورتی کا نشان نہیں بلکہ روحانی سکون کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ اس کے پروں کے ’آنکھ نما‘ نشانات بہت سے لوگوں کے لیے حفاظت، نظرِ بد سے بچاؤ اور ذہنی سکون کی علامت ہوتے ہیں۔ کئی ملکوں میں مور کے پروں کو گھروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ ماحول میں مثبت توانائی رہے۔
Many people associate the peacock not just with beauty but with spiritual calm. The eye-shaped spots on its feathers symbolize protection, warding off negativity, and mental peace. In several cultures, peacock feathers are kept in homes as symbols of positivity and harmony.
 اسلامی نقطۂ نظر — مور سے کیا سبق ملتا ہے؟
اسلامی علما کہتے ہیں کہ مور ہمیں دو اہم باتیں سکھاتا ہے:
اللہ کی قدرت بے مثال ہے — رنگوں کی دنیا میں ایسا حسین توازن صرف رب کی صناعی ہے۔
غرور نقصان دیتا ہے — کیونکہ مور کا غرور اس کی کمزوری بھی ہے؛ وہ اڑ نہیں سکتا، مگر اپنی دم پر فخر کرتا ہے۔
اس لیے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ انسان کو خوبصورتی پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے بلکہ شکر گزار رہنا چاہیے۔
 According to Islamic scholars, the peacock teaches two lessons:
Allah’s creation is perfect, and the balance of colors in the peacock is proof of divine artistry.
Pride weakens a person, just as the peacock’s pride is linked with its inability to fly well.
Thus, it reminds humans to remain humble and grateful.
مور کے  چھپے ہوئے راز  حیران کن، کم معروف حقائق
🔹 مور کی سننے کی صلاحیت بہت تیز ہے۔
It has excellent hearing sensitivity.
🔹 مادہ مور دم نہیں کھولتی، مگر شور سن کر فوراً جواب دیتی ہے۔
Peahens don’t fan their tails but quickly respond to the male’s sound patterns.
🔹 مور کے پروں کی لمبائی اس کے وزن سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔
Its feathers are ten times longer than its body weight ratio.
🔹 مور کے بچوں کا رنگ بالکل مختلف ہوتا ہے — وہ بھورے ہوتے ہیں!
Baby peacocks are brown — completely different from adults.
🔹 مور ایک دوسرے کو آوازوں سے پہچانتے ہیں۔
They recognize each other through vocal patterns.
مور کا روحانی تعلق — صوفیاء کی نظر میں مور
صوفیاء کرام مور کو خود شناسی اور حقیقت کی تلاش کی علامت کہتے ہیں۔ ان کے مطابق مور کا ناچ انسان کے اندر موجود حسنِ باطن کی طرف اشارہ کرتا ہے — یعنی جب انسان دل سے پاک ہو جائے تو اس کی روح بھی اسی طرح چمکتی ہے جیسے مور کے پروں سے روشنی پھوٹتی ہے۔
کچھ صوفی بزرگوں نے مور کو ’تجلیِ الٰہی‘ یعنی اللہ کی روشن کاری کا استعارہ بھی کہا ہے۔ اس کے پروں کی چمک یہ یاد دلاتی ہے کہ روشنی ہمیشہ اندھیرے کو شکست دیتی ہے۔
Sufis interpret the peacock as a symbol of self-purification and inner beauty. Its dance represents the awakening of the soul — when a person becomes spiritually pure, their inner light shines just like the peacock’s feathers. Some spiritual masters consider the peacock a metaphor for divine radiance, reminding us that light always overpowers darkness.
 مور کا معاشرتی نظام — یہ اپنے خاندان کو کیسے سنبھالتا ہے؟
مور اکیلا نہیں رہتا؛ یہ چھوٹے گروہوں کی شکل میں سفر کرتا ہے۔ عام طور پر ایک نر، چند مادائیں اور بچے ایک چھوٹا خاندان بناتے ہیں۔ نر مور گروپ کا محافظ ہوتا ہے، جب کہ مادہ مور خوراک ڈھونڈنے اور بچوں کی تربیت میں زیادہ فعال ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مور کا سماجی نظام باقاعدہ قوانین پر مبنی ہوتا ہے — ہر پرندہ اپنی جگہ پہچانتا ہے اور حدود کا احترام کرتا ہے۔
Peacocks don’t live alone; they travel in small family units. Usually, one male, several females, and the chicks form a family group. The male acts as the protector, while the females lead feeding activities and raise the young. Interestingly, the peacock social system works on invisible rules — each member knows its place and respects boundaries.
 مور کی ذہانت — کیا یہ سمارٹ پرندہ ہے؟
جی ہاں، مور حیرت انگیز طور پر ذہین ہوتا ہے۔ یہ اپنے بچوں، مالک، ماحول اور آوازوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مور صرف ناچتا ہی نہیں — یہ سیکھتا بھی ہے، ردِ عمل دیتا ہے، اور خطرے کا اندازہ لگا کر فوری فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس کی یادداشت بھی بہت مضبوط ہوتی ہے۔
Yes, the peacock is highly intelligent. It recognizes its young, caretakers, environments, and different sound patterns. The peacock doesn’t just dance — it learns, reacts, and takes quick action during danger. It also has a very strong memory.
 مور کی خوراک — یہ کیا کھاتا ہے؟
مور سبزی خور نہیں بلکہ ایک ”اومنی وور“ پرندہ ہے۔ یہ
🔹 بیج
🔹 کیڑے
🔹 چھوٹے سانپ
🔹 ننھے حشرات
🔹 پتے
🔹 چھوٹی چھپکلیاں
سب کھاتا ہے — یہی خوراک اسے طاقتور اور رنگین بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
The peacock is an omnivore. It eats seeds, insects, small snakes, tiny reptiles, leaves, and various small creatures. This diverse diet contributes to its strength and vibrant colors.
مور کے پروں کی عجیب طاقت  منفی توانائی جذب کرنا؟
کئی ملکوں میں یہ مانا جاتا ہے کہ مور کے پَر گھر میں منفی توانائی، حسد اور بد نظر سے بچاتے ہیں۔
اگرچہ یہ عقیدہ سائنسی نہیں، مگر صدیوں سے لوگ مور کے پروں کو گھروں میں سجا کر رکھتے ہیں۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ مور کے پروں کا ڈیزائن حقیقتاً آنکھ جیسا ہے — اسی وجہ سے اسے ”نظرِ بد شکن“ بھی کہا جاتا ہے۔
In many cultures, peacock feathers are believed to absorb negative energy and protect against jealousy or evil eye. While not scientifically proven, this belief is ancient and widespread. Interestingly, the eye-shaped patterns on the feathers strengthen this spiritual symbolism.
مور اور موسم — فطرت کا وائرلیس سنسر
مور بارش سے پہلے ناچتا ہے — یہ لوگ صدیوں سے مانتے آئے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ مور کے جسم میں نمی اور ہوا کے دباؤ کو محسوس کرنے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے۔ جیسے ہی فضا میں تبدیلی ہوتی ہے، مور بے چین ہو کر ناچنے لگتا ہے۔
Peacocks often dance before rain — a belief supported for centuries. Science explains this by their ability to sense atmospheric pressure and moisture changes. The moment the weather shifts, the peacock reacts instinctively.
 مور کی رفتار — اتنا بھاری دم مگر دوڑ کیسے لیتا ہے؟
مور کی دم اگرچہ بہت بھاری لگتی ہے مگر یہ حیران کن رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔
ایک بالغ مور کی رفتار 16 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ لمبی اڑان نہیں بھر سکتا، مگر چھوٹے فاصلے پر تیزی سے گلائیڈ کر سکتا ہے۔
Despite its heavy-looking tail, the peacock can run surprisingly fast — up to 16 km/h. It cannot fly long distances, but it can glide quickly for short bursts.
1) مور کے پروں میں اصل رنگ نہیں — صرف روشنی ہے۔
2) مور اپنی دھڑکن دوگنی کر کے ناچتا ہے۔
3) مور مادہ کو متاثر کرنے کے لیے 13 مختلف ساؤنڈز نکالتا ہے۔
4) مور کے بچے پیدائش کے کچھ گھنٹوں بعد دوڑ سکتے ہیں۔
5) مور خطرہ محسوس کرے تو چیخ جیسی آواز نکالتا ہے۔
6) مور کے پروں کی ”آنکھیں“ مادہ مور کے لیے بہت اہم اشارہ ہوتی ہیں۔
7) مور کی زندگی 20 سال تک ہو سکتی ہے۔
8) مور کا دم کھولنا مکمل اعتماد کا نشان ہے۔
9) مور درختوں پر سوتا ہے۔
10) مور کا ناچ دنیا کے 10 خوبصورت ترین جانوروں کی لسٹ میں شامل ہے۔
1) No real pigment — only light.
2) Heartbeat doubles during dance.
3) 13 different mating sounds.
4) Chicks can run hours after hatching.
5) Peacock screams loudly when scared.
6) Eye-spots attract females the most.
7) Lifespan up to 20 years.
8) Tail-fanning = confidence.
9) Roosts on trees.
10) One of the world’s top 10 most beautiful animals.
دنیا کے مذاہب میں مور — ایک عالمی علامت
مور نہ صرف جنوبی ایشیا میں بلکہ دنیا بھر کے مذاہب اور ثقافتوں میں گہری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ کہیں یہ پاکیزگی کی نشانی ہے، کہیں طاقت کا نشان، اور کہیں امید و روشنی کی علامت۔
🔹 ہندو مت : مور کو دیوتا کرشن اور دیوی سرسوتی کا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پروں کو خوشی، سچائی اور برکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
🔹 بدھ مت : بدھ مت میں مور کو روح کی صفائی اور ذہنی سکون کی علامت مانا جاتا ہے۔ بدھ راہب اسے ”سچ کی حفاظت“ کرنے والا پرندہ کہتے ہیں۔
🔹 عیسائیت : عیسائی روایات میں مور کو ’آفٹر لائف‘ یعنی ابدی زندگی کی علامت سمجھا گیا ہے۔ اس کے پروں کی آنکھیں ’سب کچھ جاننے والے خدا‘ کا استعارہ سمجھی جاتی ہیں۔
🔹 اسلام : اگرچہ مور کا نام قرآن میں نہیں لیا گیا، مگر کچھ اسلامی روایات میں اسے جنتی پرندہ کہا گیا ہے۔ کئی بزرگ مور کی خوبصورتی کو رب کے جمال کی دلیل سمجھتے ہیں۔
Across Hinduism, Buddhism, Christianity, and Islamic tradition, the peacock stands for purity, truth, wisdom, and divine beauty. No other bird holds such a universal spiritual presence.
 مور کی آوازیں — 13 ساؤنڈز، 13 پیغامات
مور صرف خوبصورت نہیں، بلکہ بہت بولنے والا پرندہ بھی ہے۔ سائنسدانوں نے اس کی 13 الگ آوازیں ریکارڈ کی ہیں، اور ہر آواز کا مطلب مختلف ہوتا ہے۔
خطرے کی آواز  : ایک چیخ جیسی اونچی آواز — جب شکاری قریب ہو۔
بارش کی آواز : ایک گہری گونج — موسم بدلنے کی نشانی۔
محبت کی آواز (مِٹنگ کال) : دلکش، کھنکتی ہوئی آواز — مادہ کو متاثر کرنے کے لیے۔
گروپ کال : اپنے خاندان کو اکٹھا کرنے کے لیے۔
Each of the 13 distinct sounds communicates danger, weather change, mating intention, or group coordination. It’s a complete language system.
 مور کے بچے — حیرت انگیز سروائیول ماسٹر
مور کے بچے پیدائش کے صرف 3 سے 4 گھنٹے بعد دوڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ اتنے چاک و چوبند ہوتے ہیں کہ زمین پر رہنے والے شکاریوں سے فوراً بچ سکتے ہیں۔
مادہ مور ان بچوں کو 7 سے 9 ماہ تک حفاظت کے سارے طریقے سکھاتی ہے — کھانا ڈھونڈنا، دشمنوں کو پہچاننا، اور اڑ کر چھوٹے فاصلے طے کرنا۔
Peachicks can run 3–4 hours after hatching. They are alert, fast, and adapted to survive predators. The mother trains them for 7–9 months, teaching survival skills and short gliding flights.
مور کا رقص — سلو موشن میں سائنس کا جادو
اگر مور کے رقص کو سلو موشن میں دیکھا جائے تو ایک ناقابلِ یقین حقیقت سامنے آتی ہے:
مور کے پروں کے کنارے ایک سیکنڈ میں سو بار ہلتے ہیں!
عام آنکھ اسے صرف ہلکی سی کمپن سمجھتی ہے، مگر اصل میں یہ ایک ’ہائی فریکوئنسی وائبریشن‘ ہوتی ہے۔
یہ کمپن مادہ مور کے ذہنی نظام پر سیدھا اثر کرتی ہے، اور وہ دم کی خوبصورتی اور کمپن کی یکسانیت سے نر مور کے معیار کا اندازہ لگاتی ہے۔
In slow motion, the peacock’s dance reveals high-frequency vibrations—over 100 feather shakes per second. This is invisible to the naked eye but highly attractive to the peahen, helping her judge the male’s strength and genetic fitness.
 مور کی خوشبو — ناچ کے دوران خاص فرینگرنس؟
ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ نر مور ناچتے وقت ایک مخصوص خوشبو بھی خارج کرتا ہے۔ یہ خوشبو مادہ مور پر فوری اثر ڈالتی ہے اور اسے قریب لاتی ہے۔
یہ خوشبو مور کے جسم میں موجود ’سینڈ گلینڈ‘ سے نکلتی ہے — جسے سائنسدان مور کی راز دارانہ کشش کا حصہ مانتے ہیں۔
Male peacocks release a special scent during dancing. This scent attracts the peahen and increases her attention. Scientists believe this gland-produced fragrance strengthens mating signals.
مور اور انسان کا تعلق — نفسیاتی فائدے؟
تحقیق کے مطابق مور کو دیکھنے سے انسانی ذہن میں
 خوشی کا ہارمون ڈوپامائن
 سکون کا ہارمون سیروٹونن
 ذہنی راحت کی توانائی
بڑھ جاتی ہے۔
اسی لیے بہت سے لوگ مور دیکھ کر ذہنی سکون محسوس کرتے ہیں — اس کی خوبصورتی دماغ کو خوشی کے سگنل بھیجتی ہے۔
Research shows that watching a peacock increases dopamine and serotonin levels in humans. This is why many people feel relaxed and emotionally uplifted when they see a peacock.
 مور کی دم — دنیا کا سب سے مضبوط ’قدرتی فین‘
مور کی دم اگرچہ خوبصورت ہے، مگر انتہائی مضبوط بھی ہے۔
یہ 200 پروں پر مشتمل ہوتی ہے، اور ہر پر کے آخر میں موجود ’آنکھ‘ 160 سے 170 چھوٹے مائیکرو فلیکس سے بنتی ہے۔
یہ مائیکرو فلیکس روشنی کو توڑتے ہیں — اور دم میں وہ شاندار قوسِ و قزح بناتے ہیں جو مور کو دنیا کا خوبصورت ترین پرندہ ثابت کرتی ہے۔
The peacock tail is a super-structure of 200 feathers, each eye-spot containing 160+ light-reflecting micro-layers. This makes it one of nature’s strongest and most beautiful optical creations.
 مور کی یادداشت — حیران کر دینے والی طاقت
مور اپنی جگہیں، راستے، خطرے کے مقامات، انسانوں کے چہرے اور آوازیں سالوں تک یاد رکھ سکتا ہے۔
یہ ان چند پرندوں میں سے ہے جو اپنے مالک کو صرف آواز سے پہچان لیتے ہیں۔
Peacocks remember faces, paths, danger zones, and voices for years. They can identify their caretaker simply through voice recognition.
Unique Facts
11) مور دھوپ میں زیادہ ناچتا ہے — تاکہ رنگ چمکیں۔
12) مور ہر سال اپنی دم بدلتا ہے۔
13) پروں کے گرنے کے بعد نئے پروں میں مزید چمک آتی ہے۔
14) مور مضبوط جھاڑیوں میں چھپ کر آرام کرتا ہے۔
15) مور کا دل جنگ کے دوران ’ہائی الرٹ موڈ‘ میں چلا جاتا ہے۔
16) مادہ مور دم کے رنگ نہیں، کمپن کو ترجیح دیتی ہے۔
17) ایک مور اپنے علاقے کو 2 کلومیٹر دور تک پہچانتا ہے۔
18) مور کے پنجے حیرت انگیز طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔
19) مور خوفزدہ ہو کر درخت پر 10 فٹ اونچائی تک چھلانگ لگا سکتا ہے۔
20) مور کے دم کے پروں کا وزن صرف دیکھنے میں زیادہ لگتا ہے، حقیقت میں بہت ہلکا ہوتا ہے۔
1) مور کیوں ناچتا ہے؟
مور مادہ کو متاثر کرنے اور اپنی خوبصورتی دکھانے کے لیے ناچتا ہے۔
A peacock dances to attract the female and display its beauty.
2) کیا صرف نر مور ہی ناچتا ہے؟
جی ہاں، صرف نر مور اپنی دم کھول کر رقص کرتا ہے۔
Yes, only male peacocks dance with their tail open.
3) مور بارش سے پہلے کیوں ناچتا ہے؟
کیونکہ نمی اور موسم کی تبدیلی اسے متحرک کر دیتی ہے۔
Humidity and weather shifts stimulate the peacock to dance.
4) مور کی دم کا رنگ کیسے بنتا ہے؟
یہ رنگ اصل میں روشنی کے انعکاس سے بنتے ہیں، پگمنٹ سے نہیں۔
Colors appear through light reflection, not pigments.
5) کیا مور اُڑ سکتا ہے؟
ہاں، مور چھوٹے فاصلے تک اڑ سکتا ہے۔
Yes, peacocks can fly short distances.
6) مور کی عمر کتنی ہوتی ہے؟
مور 15 سے 20 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
Peacocks can live 15–20 years.
7) کیا مادہ مور بھی دم کھولتی ہے؟
نہیں، صرف نر مور کے پاس رنگین دم ہوتی ہے۔
No, only males have the colorful tail.
8) مور کیا کھاتا ہے؟
مور کیڑے، بیج، پتے اور چھوٹے جاندار کھاتا ہے۔
Peacocks eat insects, seeds, leaves, and small creatures.
9) مور کہاں پایا جاتا ہے؟
مور زیادہ تر ایشیا خصوصاً پاکستان اور بھارت میں پایا جاتا ہے۔
Peacocks are mostly found in Asia, especially Pakistan and India.
10) کیا مور گھر میں پالنا جائز ہے؟
ہاں، لیکن مناسب جگہ، خوراک اور دیکھ بھال ضروری ہے۔
Yes, but proper space, diet, and care are required.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top